Abida Rahmani : Khizan ke baad

 خزاں کے بعد۔۔۔۔مجاہدہ جس نے 80 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور دو دن بعد سڑک حادثہ میں جامِ شہادت نوش کیا
Abida Rehmani

عابدہ رحمانی

کل رات سے تیز آندھی اور جھکڑ چل رہے تھے- یہاں کی ساؤنڈ پروف کھڑکیوں اور دروازوں سے بھی ہوا کے غرانے کے آوازیں آرہی تھیں، ٹیلی وژن کے چینل مستقل موسم کا حال بتا رہے تھے ساٹھ ستر میل کے رفتار سے ہوا چل رہی تھی خزاں رسیدہ پتوں کی بوچھاڑ تھی اور سرسرانے کے آوازیں- قدرت کا قانون بھی نرالا ہے کچھ دِن پہلے ہی ان درختوں کے پتوں پر رنگوں کا ایک جوبن تھا یوں لگتا تھا ہر ایک پتا ایک پھول بن گیا ہے مجھے یہاں کا یہ موسم بہت پیارا لگتا ہے موسم بہار میں تو پتے کھلتے ہیں اور اس موسم میں پتوں کے بدلتے ہوئے کیا دلکش رنگ، سبحان اللہ-میں تو ان رنگوں سے بلکل سحر زدہ ہو جاتی ہوں جب دیکھنے سے طبیعت نہیں سیر ہوتی تو کیمرے کو لیا اور تصویریں لینے لگی-گھنے درختوں میں لال پیلے ہرے قرمزی جامنی رنگ کے پتے کیا قدرت کی صناعی، کہ انسان عش عش کر اٹھے -یہ بہار دکھانے کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے – یہاں پر انکو fall colors کہا جاتا ہے – – ہم اسکو\” خزاں کے رنگ\” کہتے ہیں – سردی کے شدت کے ساتھ یہ پتے جھڑنے لگتے ہیں اور نیچےگرے ہوۓ بھی اپنا حسن دکھاتے ہیں – 
باقی پتے تیزی سے پیلے اور پھر بھورے ہونے لگتے ہیں یوں لگتا ہے اب انکا آخری وقت آن پہونچا ان پتوں کو پایا انجام تک پہونچانے کے لئے ایک تیز زوردار آندھی اور جھکڑ چلتے ہیں اور رہے سہی پتے بھی گر جاتے ہیں –
دوپہر کو جب کچھ خاموشی چھا گئی تو میں نے اپنےجوگرس اور جیکٹ پہنی، فون جیب میں ڈالا اور دروازہ کھول کر باہرنکل آئی – میں جب سے ان ممالک میں ہوں روزمرہ کی چہل قدمی یا واک کو اپنے معمول کا حصہ بنالیا ہے -اس کے بہت سے فوائد ہیں – صحت کے لحاظ سے بھی اور نفسیاتی لحاظ سے بھی – باہر کے تازہ ہوا خوبصورت روشوں اور صاف ستھرے پاتھوں پر گھوم پھر میں کافی تازہ د م ہوجاتی ہوں ، کچھ لوگوں سے ہیلو ہائی بھی ہوجاتے ہے – ہر طرف پتوں کا ڈھیر لگا تھا کچھ لوگ نکل کر اسے سمیٹنے میں مصروف نظر آئے ،کچھ بچے rack کر کے شغل کر رہے تھے -مجھے قدرے دور سے ایک بوڑھی خاتون نظر آئیں -ایک ویکوم کلینرچلا کر اسکے موٹے پائپ سے کچھ پتوں کو یکجا کرکےلرزتے ہاتھوں سے ساتھ رکھے ہوئی ڈرم میں ڈالتی -پتوں کا ایک ڈھیر تھا اور وہ بمشکل دو چار پتے اٹھاتی -مجھ میں حسب معمول خدمت خلق کا جذبہ جاگا – میں نے سوچا کہ اسکی مدد کرنی چاہیے -\”کیا میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں ؟\”میں نے انگریزی میں کہا -\”ہاں ہاں کیوں نہیں \”-\”مجھے دستانے دے دو اگر ہو سکے-\”وہ جلد ہی میرے لئے باغبانی کے دستانے لے آئی- اسکو پہن کر میں نے دونوں ہاتھوں سے پتے ڈرم میں بھرے وہ بھی تھوڑی مدد کر نے لگی -پتے سمٹے تو اس نے مارے محبت کے مجھے چمٹالیا اور یوں اے لن سے میری دوستی ہوگئی – میں نے اس سے اجازت لی تو اس وعدے کے ساتھ کہ میں اس سے ملنے آؤنگی- \”میں زیادہ تر گھر پہ ہوتی ہوں – تم جب جی چاہے آجانا -\” دو چار دن کے بعد پھر وہاں سے گزر ہوا تو میں نے سوچا گھنٹی بجا کر دیکھ لیتی 
ہوں -گھنٹی کی آوازکے ذرا دیٍر بعد اس نے دروازہ کھولا اس نے چمکیلا سرخ رنگ کا بند گلے اور پوری آستیں کا بلوز اور سیاہ سکرٹ زیب تن کیا تھا
ہلکا مک اپ ونچی ایڑی کے جوتے ،غرض یہ کے خوب تیار تھی -\”وہ میں کیا غلط وقت پر آگئی ہوں ،تم لگتا ہے کسی پارٹی میں جا رہی ہو ؟-\” \” نہیں نہیں بلکل صحیح ائی ہو میں بس ابھی چرچ سے آئی ہوں -\”اس نے مجھے کرسی پیش کی \” ہاں وہ آج اتوار ہے – اے لن تم کونسے چرچ میں جاتی ہو؟ \” \”میں مؤرمون ہوں -\” اور اس نے مجھے اپنے چرچ کا محل وقوع بتانا شروع کیا – ایک لمحے کے توقف کے بعد بولی \”اور تمہارا چرچ اور مذہب 
کونسا ہے؟ _\” \”میں مسلم ہوں \” اس نے ذرا غور کے بعد کہا\” اوہ موزلم! \” میں اس کے چہرے پر آنے والے تاثرات دیکھ رہی تھی -مسلمانوں
کو یہاں اب جتنا تفتیشی انداز سے یہاں دیکھا جاتا ہے اور میڈیا میں دکھایا جاتا ہے ،یہ کچھ غیر متوقعہ نہیں تھا -\”اچھے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں
اس نے میرا ہاتھ تھام کر کہا – پھر میں نےسوچا کہ یہ اچھا موقع ہے اسے اپنے دین کہ بارے میں بتانے کا -\” ہم لوگ مسجد جاتے ہیں اور گھر
میں بھی پڑھ سکتے ہیں -ہم لوگ دِن میں پانچ دفعہ نماز ادا کرتے ہیں -\”اسے کافی حیرت ہو رہی تھی -اس کے بعد ہمارا گھریلو تعارف ہوا – اس نے بتایا کہ وہ ٣ بچوں کی ماں سولہ کی نانی دادی اور چھتیس کی پر نانی پر دادی ہے -\”واو بہت بڑا خاندان ہے تمہارا !\” حقیقتاً میں حیرت زدہ تھی کیونکے یہاں لوگ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنا ہی نہیں چاہتے -\”ہم مورمون میں شادیاں جلد ہوجاتی ہیں اور ہم زیادہ اولاد کی پیدائش پر یقین رکھتے ہیں،اسکے علاوہ ہم جائز ازواجی تعلقات قائم کرتے ہیں- باکریت اور پاکیزہ رہتے ہیں \”-یہ جملہ تو مجھے بیحد بھایا اور الله کا شکر ادا کیا کہ یہاں ایسے لوگ بھی رہتے ہیں -وگرنہ جنسی لحاظ سے تو جانوروں والا حال ہے – میں بیحد حیران ہوتی ہوں کہ اتنی منظم قوم نے اس شعبے کو بلکل ہی کھلا اور بے لگام چھوڑ رکھا ہے -(مورمون عیسائی فرقہ ہے لیکن اس میں اب بھی پغمبر آتے ہیں بہت سے عیسائی انھی عیسائی نہیں مانتے ) 
ای لن کا صاف ستھرا سجا سجایا گھر بہت خاموش تھا -ایک طرف اس کا پوڈل پھر رہا تھا جو وقتاً فوقتاً آکر اسکی گود میں بیٹھ جاتا اور وہ اس کو پیار سے سہلانے لگتی\’یہ میرا چھوٹا سا بچہ ہے اور بہت ہی پیارا !\”اتنے بڑے خاندان کے ہوتی ہوئی وہ بلکل تنہا تھی اور یہی تنہائی یہاں کے بوڑھوں
کا المیہ ہے ؟ -کرسمس کے دِن تھے اس کی چہل پھل ہر طرف تھی اسکا کرسمس tree جگمگا رہا تھا -کرسمس پر اسکا چھوٹا بیٹا اپنے بیٹے کے ساتھ آرہا تھا وہ سوچ سوچ کر بیحد خوش تھی -شوھر کو مرے ہوئی دس سال ہوچکے تهے اور اسکے بعد وہ تنہا تھی \”میں نے کوئی دوسرا پارٹنر ڈھونڈھنے کی کوشش ہی نہیں کی \” -چند دِن بعد میں اس کے لئے کرسمس کا تحفہ لے گئی قرآن پاک کا یوسف علی کا انگریزی ترجمہ اور پاکستان کا ایک کڑھا ہوا بیگ ،اسنے بھی مجھے بہت خوبصورت تصویری فرہم دیا اپنی بیک کی ہوئی کوکیز …اور مجھے کرسمس پر کھانے کی دعوت دی -اے لن نے مجہے مارمن مذہب کے بارے بتایا اسکی فیملی کے کافی لوگ مبلغ تھے اور مختلف ممالک میں تبلیغ میں مصروف تھے – یہ فرقہ شمالی امریکہ میں تیزی سے پھیل رہاھے اسکےعلاوہ یوروپ اور افریقہ میں بھی اسکے مبلغ کافی سرگرم ہیں، امریکا کے ریاست یوٹاہ میں ان کی اکثریت ھے اس وقت ریپبلکن پارٹی کا مضبوط امیدوار Mitt Romney اسی فرقے سے ھے اسکے علاوہ مارمن اسپر بہت فخر کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ کا موجد Tim Berners-Lee بھی مارمن تھا-
-ہم چھٹیوں میں شہر سے باہر جا رہے تھے،اس وجہ سے میں نے معذرت کر لی – واپسی پر میں اس سے ملنے گئی تو گھر میں خاموشی تھی-نۓ سال کی مبارکباد کے لئے میں نے اس کےفون پر پیغام دیا -فورن ہی اسکا جوابی پیغام آیاکہ وہ آجکلUtah میں اپنے خاندان کے پا س چند دن کے لئے گئی ہے -یھاں کے بوڑھوں میں تنہائی کی وجہ سے حد درجہ خود اعتمادی اور خود داری پائی جاتی ہے -وہ اپنے سارے کام خود انجام دیتی – ڈرایئونگ،گروسری،کھانا بنانا ،لانڈری وغیرہ ،صفائی کے لیے البتہ ہفتے دو ہفتے میں میڈ بلا لیتی- وہ اپنے گھر میں ہی رہنا چاہتی تھی \”میری اس گھر سے بھت یادیں ہیں-اپنے شوہر کے ہمراہ میں نے یہان بہترین وقت گزارہ ہے\”
مجھے نئی سال کے لئے بہترین خواہشات دیں اور بتا کہ اس نے میرے bible کو تھوڑا پڑھ لیا ہے اور کچھ کہانیاں انکے bible کے جیسے ہیں. میں آ کر تم کو کال کرونگی – -اسکی باتوں سے اندازہ ہو رہاتھا جیسے کہ اسے اسلام سے دلچسپی ہو رہی ہے-\”تم آنا تو پھر ملتے ہیں\” میں نے اسے بایئ کہا -تقریبا ایک ہفتے کے بعد اسکا فون آیا،\” عابدہ میں واپس آگئ ہوں، کل میں 11 بجے تم سے ملنے آسکتی ہوں\”-\”ہاں ضرور کل میں فارغ ہوں- تم میرے ساتھ لئنچ کرنا\” \’ نہیں میں صرف کافی لے لونگی\” یھاں لوگ بغیر کسی تردد کے اپنی پسند نا پسند بتا دیتے ہیں اور بیجا تکلفات میں نہیں پڑتے- میں نے حسب عادت کافی کے ساتھ دو تین چیزیں رکھ دیں- یوٹاہ میں اسکے کافی رشتہ دار تھے ،کافی بڑا خاندان تھا\” ہمارے مارمن میں عورتیں بہت محفوظ زندگی گزارتی ہیں\” میں نے اسے بتایا کہ ہمارے ہاں بھی یہی طریقہ ہے -شوہر،باپ،بھائی ،بیٹا عورت کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں- وہ میرے لیے نۓ سال کا ایک خوبصورت سا برف گرتا ہوا گلوب لائ اس میں ھلکی سی موسیقی کی دھن میں ایک گھر کے اوپر برف باری ہورھی ہے-اس نے خود ہی کہاِ\’ تمھارا بائیبل میں نے پورا پڑھ لیا ہے\” \”یہ در اصل قرآن کا ترجمہ ہے اصل قرآن عربی میںہے-میں قرآن پاک اٹھاکر لے آیئ اور اسے عربی دکھانے لگی-\”تمہیں معلوم ہے کہ قرآن اسی حالت میں ہے جسطرح یہ ہمارے پیغمبر محمد ص پر نازل ہوا تھا\” وہ کافی دلچسپی سے سن رہی تھی ،\” ہاں میں نے محمد کا نام سنا ہے جسکے ڈنمارک کے اخبار میں کارٹون آۓ تھے اور موزلمز نے بہت ہنگامہ کیا تھا\” وہ کافی باتوں سے باخبر تھی،پھر خود ھی کہنے لگی \” کسی کے دین یا پیغمبر کے مزاق بنانے کو میں بلکل پسند نہیٓں کرتی- لیکن میں نے سنا ہے کہ تم لوگ اپنے پیغمبر کی نہ تو تصویر بناتے ہو اور نہ statue؟\” \” ہاں بالکل صحیح ہمارے پیغمبر نے خود اسکو سختی سے منع کیا کیونکہ بعد میں اسی سے بت پرستی شروع ہو جاتی ہے اور بت پرستی اسلام میں حرام ہے\”-میں اسے تھوڑا تھوڑآ سمجھانے کی کوشش میں تھی کہ اسکی دلچسپی بھی برقرار رہے اور پریشان بھی نہ ہو- پھر میں نے جان کر سیاست کی بات شروع کی وہ Mitt Romney کی بھت تعریف کر نے لگی \” تم جانتی ھو سالٹ لیک سٹی میں جو اولمپک ہوۓ تھے تو اسکا آرگنائزر مٹ رومنی تھا ،وہ بیحد ہوشیار اور تیز شخص ہے خدا کرے کہ وہ صدر بن جاۓ تو امریکا کا سنہرا دور لوٹ آۓ گا\” اسنے گھڑی دیکھی \” اوہ دو بج گۓ ،3 بجے میری ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ ہے اب چلتی ہوں\” میں نے اسے رخصت کیا اور یوں ہماری وقتا فوقتا ملاقات شروع ہوئی–
اگلی مرتبہ جب میں جانے لگی تو میں نے اسکے لیے Dr. Mustafa Abu sway کی مشھور کتاب Jesus Christ the Prophet Of Islam لے لی یہ مجہے خود تحفے میں ملی تھی لیکن میرے لیے اسکا اس سے بہتر مقصد نہیں تھا اس سے پہلے میں نے اسے اتنا بتایا تھاکہ ہم Jesus کو بہت بڑا پیغمبر مانتے ہیں اور اس پر اور تمام پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں اور یہ کہ انکو عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں وہ بیحد حیران ہوئی کہ یہودی ان کو نہیں مانتے اور پھر عیسائی اور یہودی تمہارے پیغمبر محمد صلاللہ علیہ و سلم پر ایمان نہیں لاتے- در اصل تبلیغ میں قرآن کی اس آیت کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے \” لا اکراہ فی الدین\” اور مخاطب کی دلچسپی برقرار رہنی چاہئے- وہ بھی مجھے مورمن کے بارے میں بتاتی رہی یوں لگ رہاتھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو متاثر کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن میرا پلڑا بھاری تھا- \” ہم باپ\’ بیٹے پراور Jesus کے دوبارہ آنے پر یقین کرتے ھیں\”-\”ہم مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کو ایک برگزیدہ پیغمبر مانتے ہیں اور انکے معجزوں او ر معجزاتی پیدائش پر ایمان لاتے ہیں لیکن اللہ ایک ہے اور اسکا نہ کوئی بیٹا ہے نہ بیوی ہے – تم یہ کتاب پڑھنا اسمیں کافی تفصیلات ہیں اور ہم پھر ملینگے تو باقی باتیں ہونگی\”- میں نے اجازت لی اسنے مجھے گلے لگا کر پیار کیا \’ تمھاری وجہ سے میرا اتنا اچھا وقت گزر جاتا ھے کاش کہ ہم جلد ملیں – \” میں نے کہا ہاں انشاءاللہ \” اسنے فورا پوچھا کہ اسکا کیا مطلب ہے ؟ میں نے وضاحت کی-
کچھ دن کافی مصروف گزرے اسکا فون آیا \” کہاں ہو؟ میں نے کتاب پوری پڑھ لی بلکہ سمجھو دو مرتبہ پڑھی وہ تیز پڑھنے والوں میں تھی اور بہت متاثر ہوں\” مجھے بیحد خوشی ہے، اچھا اگر شام کو فارغ ہو تو میں ملنے آؤنگی—اور یوں ہم کبھی ساتھ لنچ کرنے چلے جاتے ، کبھی کسی پارک میں جاکر بیٹھ جاتے اور میں تھوڑا تھوڑا باتوں باتوں میں اسے کچھ نہ کچھ پیغام دیتی رہتی –اسکو سب سے زیادہ پریشانی پانچ وقتہ نماز کی تھی- اگلی مرتبہ میں نے اسکے سامنے نماز ادا کی، وہ میری محوئت کو بہت دلچسپی سے دیکھتی رہی،\” بہت اچھی meditation مراقبہ ہے\”- میں اسکو سنانے کے لیے باآواز بلند تلاوت کرتی رھی- اسے یہ سب بہت بھلا لگ رہاتھا- \’ تم لوگ اتنا زیادہ اللہ سے تعلق رکھتے ہو؟ \” ہماری ساری تگ و دو آخرت کے لیے ہے ،زندگی اسی کی تیاری میں گزرتی ہے، اور اسی امید میں کہ آللہ تعالیٰ آخرت میں بہتر ؐمعاملہ کرے گا\” \” مانتے تو ہم بھی ہیںلیکن اتنی توجہ نہیں دیتے \”
میں نے اسکو بتانا مناسب نہ جانا کہ بہت سے مسلمان بھی اسطرح کے ہیں بلکہ ایک کثیر تعداد اسی قسم کے ہیں — میں مسجد سے اسکے لئے WHY Islam , Gain Peace کےبھت سارے پمفلٹ اٹھا لائی جو دعوہ کے لحاظ سے کافی دلچسپ تھے اور انمیں کافی سوالوں کے جوابات تھے- ایک روز جب اسنے نماز پڑھنے کی خواھش کی تومیں نےاللہ تعالیٰ کا بیحد شکر ادا کیا اسنے بتایا کہ وہ جھک نہیں سکتی کیونکہ اسکی کمر کی سرجری ہوئی تھی تو میں نے اسے تسلی دی کہ وہ کرسی پر بیٹھ کر بھی پڑھ سکتی ہے اور اسکو مختصرا بتایا کہ بیمار کے لیے نماز میں کیا سہولت ہے اسی طرح وضو اور تیئمم کا بھی سمجھا دیا اسنے میرے ساتھ وضو کیا اور پھر میں تلاوت کرتی رھی اور اسکو بتاتی رھی کہ کیسے کرنا ہے اسنے صرف اللہ اکبر سیکھا اور وہی پڑھتی رہی- چونکہ میں پوری طرح ادا کر رھی تھی تو کہنے لگی\” یہ تو یوگا کی طرح پورا ورک آؤٹ ہے \”ہاں کہ سکتے ہیں اگرچہ مقصد یہ نہیںہے بلکہ اللہ کے حضور حاضری ہے- اسکا ذہن رفتہ رفتہ اسلام اور مسلمانوں سے صاف ہوتا گیا میں نے اسے اپنے آزمائشوں کے قصے سنائے، اور یہ کہ ہر جگہ اندوہناک المیےرونما ہوتےہیں اسکے کرتا دھرتا ہم میں سے ہی ہوتے ہیں-جرائم اور حادثات کی داستانیں ہر جگہ ایک ہی جیسی ہیں اور اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں stereo type نہیں کرنا چاہئے جیسے کہ یھاں میڈیا میں مسلمانوں کو دکھا یا جاتا ہے ،حالانکہ اسقدر مسلمان اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہیں اور بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں-اکثریئت امن پسند اور قانون پسند شہری ہیں-
اسنے ایک روز آخرکہہ ہی دیااورحقیقت میں اللہ کی ذات ہی ہدائت دینے والی ہے- \”اگر میں مسلمان ہوجاؤں تو میری کمیونٹی مارمن میرا بائکاٹ کر لیںگے اور پھر میرا خاندان بھی ناراض ہوگا\”-میں نے سمجھایا کہ وہ اسکو چھپا کر بھی رکھ سکتی ہے وہ 80 برس کی ہونے والی تھی- اسنے مجھ سے شھادہ لینے کا فیصلہ کیا -کہنے لگی کہ اسنے تھوڑی دیر پہلے غسل کیا ہے اور وضو سے ہے اسنے سر پر رومال باندھا اور میرے ساتھ کلمہ شھادت دوہرانے لگی ہم نے اسکو آہستہ آہستہ تین مرتبہ دہرایا، پھر میں نے اسے معنی بتاۓ- فرط مسرت سے میں نے اسے چمٹالیا وہ بری طرح لرز رہی تھی شدیدد جذبات کی مغلوبیت تھی — میں نے اسے اسکی شال اوڑھائی پھر اسنے رونا شروع کیا، \’ ابیدہ ایسا تو نہیں ہوگا کہ میں مرنے کے بعد ڈیوڈ سے نہ مل سکوں، مجھے وہ بری طرح یاد آتاہے ہم نے بیحد حسین 52 سال اکٹھے گزارے ہیں وہ بہت اچھا شوہر تھا \”- \” دیکھو ہمارے عقیدے کے مطابق تم اللہ کی چنی ہوئی بندی ہو تمھارے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے اللہ تعالیٰ تم پر بیحد رحم کرے گا اور تمھاری تمام خواہشات پوری کریگا\”– مین نے اسے تسلی دی اور یہ طے ہوا کہ جمعے کی نماز کے بعد وہ شیخ عبدالحکیم سے شھادت قبول کر لے گی میں نے سب کچھ طے کر لیا تھا اسی شام کو ہم نے مسجد میں کھانے کا انتطام کر لیا تھا – میری دیگر دوستوں نے اسکے لیے تحفے لے لیے–میں بھی دو روز اسکے لیے خریداری کرتی رھی لمبے سکرٹ خریدے بلاؤز تو وہ زیادہ تر پورے استین کی پہنتی تھی- خوبصورت نفیس اسکارف لیے اور جمعے کا شدت سے انتظار تھا— دن میں ایک دو مرتبہ ھماری بات ہوجاتی تھی-
ہائی وے پر کوئی بہت برا حادثہ ہوگیا تھا– خبروں میں مستقل آرہا ہے -ایک بوڑھی عورت نے غلط لین لیا تھا ، آگے پیچھے کی گاڑیاں لپیٹ میں آگئی تھیں زیادہ تفصیلات نہیں آئیں – اگلے روز میں اس کےفون کا انتظار کرتی رہی پھر خود ہی اسے کال کر کے پیغام دیا کوئی جواب نہیں آیا تو خود ہی اسکے گھرچلی گئی، -گھنٹی بجانے پر ایک جوان سال لڑکا باہر آیا \”کیا میں آپکی کوئی مدد کر سکتا ہوں ؟\” میں ائے لن کی دوست ہوں کیا وہ گھر پر ہے ؟\” وہ سپاٹ لہجے میں بولا -\” کل کے حادثے میں اسکی موت ھوگئی ہے-\” ہیں! میں نے بمشکل اپنے آپکو سنبھالا اور حسب عادت منہ سے\” انا للہ وہ انا الیھ راجعون\” کہا لڑکا مجھے حیرت سے دیکھ رہا تھا -میرے دل سے ایک ہوک اٹھی ایک غم و اندوہ مجہ پر طاری تھا،جیسے میری ایک عزیز ترین ہستی مجھسے جدا ہوگئ ہو- اب میں اسکے گھر والوں کو کیسے بتاؤں کہ اسنے اسلام قبول کر لیا تھا ، میری بات کا یقین کون کریگا- اس نے بتایا کہ جمعے کو میت funeral home میں آئیگی ،اگر تم اسکو دیکھنا چاہو تو وہاں آجانا یوں ہمارا خاندانی معاملہ ہے – میں نے اس سے راستہ اور پتا معلوم کیا – وقت مقررہ پر میں پیلے اور سفید گلاب کا گلدستہ لے کر وہاں پہونچ گئی – کچھ مرد اور خواتین سیاه لباس میں ملبوس تھے میں نے بھی کالا سوٹ پہنا تھا لیکن وہ اپنے درمیان ایک رنگدار عورت کو دیکھ کر حیران تھے اور ایک دوسرے کو کن آنکھوں سے دیکھنے لگے – یہ مورمن چرچ تھا ہلکی غمناک موسیقی کی دھن بج رھی تھی -فضاسوگوار تھی\’ھلکی روشنی موم بتیاں ہلکی ہلکی خوشبو کے ساتھ جھلملا تی رہیں- اسکے بیٹے ، پوتے اور پوتیاں آکر اسکی خوبیاں بیان کرتے رہے کہ وہ کتنی اچھی ماں ،نانی اور دادی تھی اسنے انکو کتنے تحفے تحائف دئے- اتنے میں اسکے بڑے بیٹے نے اعلان کیا کہ مام MOM کا وکیل اسکی وصئت سنانی چاھتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اس میں کوئی بڑی خاص با ت ہے (یہاں کے لوگ اس لحاظ سے اتنے باعمل ہوتے ہیں کہ جوان جوان لوگ اپنی وصیئت کر کے لکھ لیتے ہیں اور بوڑھے اسکا خصوصاخیال رکھتے ہیں)- میرے سمیت ہر ایک ہمہ تن گوش تھا-
وکیل بتانے لگا \” دو روز پہلے اے لن نے مجھے فون کیا کہ وہ اپنے وصیئت نامے میں کچھ ضروری تبدیلی کرنا چاہتی ہے اور مجھے فورا ملنے کو کہا، میں شام کو گیا تو وہ میری منتظر تھی ،کہنے لگی مجھے اس وصیئت میں اپنے مذہب کو بدلنا ہے ،میں دو دن پہلے میں مسلمان ہوگیئ ہوں اور اپنی مرضی سے ہوئی ہوں ،عابدہ میری گواہ ہے – اگر مجھے کچھ ہو جاتاہے تو میری تدفین اسلامی لحاظ سے ہونی چاہئے- سب لوگ بیک نگاہ میری طرف متوجہ ہوۓ میرے سر پر بندھے سکارف سے انہیں یقین تھا کہ یہ میں ھی ہوں-
لڑکا Jeff اگے بڑھا مجھے آہستہ سے ہائی کہا اور ایک عورت کے کان میں کھسر پھسر کی – وہ آگے آئی اور مجھے تابوت کے پاس لے گئی اے لن ویسے لگ رہی تھی جیسا میں نے اسے اس دِن چرچ سے واپسی پر دیکھا تھا اور وہی سرخ چمکدار بلوز پہنا تھا بلکل تیار ،مک اپ کیا ہوا، بال سامنے سے بنے ہوۓ ،چہرے پر ہلکا جالی کا سیاہ نقاب — – عورت آہستہ سے بولی پیچھے سے جسم بری طرح زخمی ہے – وہ کہنے لگی ،\” اب تم ہمیں راستہ دکھاؤ کہ ہم مام کی تدفین کو کیسے کریں ؟ ( انکا یہ کمال ھے کہ وصئیت کو پوراکرنے میں کوتاھی نہیں کرتے حالانکہ ہم مسلمانوں کو قرآن میں خاص تاکید ہے) میں نے پھلے تو امام مسجد شیخ عبدالحکیم کو فون کیا انکو تمام صورت حال بتائی اور اپنی دوسری دوستوں کو فون کئے- مسجد میں مردہ خانہ موجود تھا ہم مئیت وہاں لے آئے،پھر اسکو غسل دیا ،کفن تیار تھا -اسکے گھر والے حیران پریشان سب دیکھ رھے تھے -اجلے کفن میں وہ جنت کی حور لگ رھی اسقدر پاکیزہ اور نورانی چہرہ کہ نظر نہیں ٹھرتی تھی،ایک عجیب سی فضا تھی لگ رھاتھا فرشتوں نے اسے گھیرے میںلیا ہواہے یوں لگتا تھا ابھی بول پڑیگی\’ابیدہ دیکھو میں اس سارے معاملے میں کتنی سنجیدہ تھی\” اسی جمعے میں جسمیں اسکو شھادہ لینا تھا اسمیں اسکا جنازہ ہوا امام نے جنازے سے پہلے نمازیوں کو اسکے متعلق بتایا اسکے گھر والے بھی جنازے میں شریک ہوۓ اسلامی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا …. بہت ساری دعاؤں کے سا تھ اے لن رخصت ہوئی ،اے راہ حق کی مجاہدہ اور شہید میں اور میری امت تمہیں سلام پیش کرتی ہے- ——-سردیاں گزر چکی تھیں بہار کی آمد آمد تھی ٹیولپ اور ڈیفاڈل کے پھول بہار دکھا رہے تھے –سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں- خاک میں کیا صورتٰیں ہونگی کہ پنھاں ہوگیئں —–

Advertisements

Mahmood Gawan

تاریخی یونیور سٹی محمود گاوان بیدر
جمیل احمد
ایم ۔اے، سیٹ،پی ایچ ۔ڈی اسکالر
اُردو لکچرار 9343312017
ڈاکٹر بی۔آر۔امبیڈ کر ڈگری کالج ،بیدر (کرناٹک)

ہندوستان نے کئی ذی اثر اور قدآور شخصیتوں کو پیدا کیا اور دوسرے ممالک کے لوگو ں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ وہ اپنے کا رہائے نمایاں انجام دیتے گزر گئے اور اس ملک نے ان کو فراموش کردیا۔ لیکن دو شخصیات ایسی ہیں جن پر ہر ہندوستانی کو فخر ہونا چاہیئے۔ محمود گاوان اورسر سید احمد خان جنہوں نے تعلیم کو تر جیح دی ۔ بیدر کی تاریخ تقریباََ دو ہزار سال پرانی ہے۔ اس شہر کا ذکر ہندؤں کی مشہور کتابوں ’’رامائن و مہابھارت ‘‘ میں بھیموجود ہے ۔ تاریخ میں بیدر 5000قبل مسیح پہلے ایک بانس کا جنگل کہلاتا ہے جو سنسکرت میں ویدُر کہا جاتا ہے۔ چند لوگوں سے بساچھوٹا گاؤں اور شہر بنا یہاں کے راجاکا نام بیدر تھا اُس نے اس شہر کا نام بیدر رکھا۔بہمنی نے سلاطین میں احمد شاہ بہمنی بیدر شہر سے 12کلو میٹر دوُر نعمت آباد میں قلعہ بنانے کی کوشش کی لیکن ایرانی انجینئر نے ندی کی زر خیزی کی وجہ سے مٹی میں نمی ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا اور ایک مضبوط قلعہ بنانے سے انکار کیا اور 12کلومیٹر دور پہاڑ (موجودہ بیدر)کی نشاندہی کی ۔1428ئمیں قلعہ کی بنیاد رکھی گئی۔ 1432ء کو قلعہ تعمیر ہوا۔ اِس حکومت کے بعد علاؤالدین احمد شاہ کے عہد میں عمادالدین خواجہ محمود گاوان 1454ء کو بہمنی بندر گاہ مصطفےٰ آباد پہنچے ۔ سلطان شمس الدین محمد شاہ ثانی بہمنی کے عہد میں 1472ء کو محمود گاوان یونیور سٹی کا قیام عمل میں آیا ۔ ویسے ہندوستان میں نالندہ وکرم یو نیورسٹی موجود تھی لیکن اس میں بدھ مت اورجین مت کی مذہبی تعلیم کو تر جیح دی جاتی تھی۔
خواجہ عمادالدین محمود گاوان کی پیدائش گیلان کے ایک قر یہ قاوان میں 1405ء میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم رشتہ داروں کی نگرانی میں اپنے ہی قریہ میں حاصل کی اورچچا کے ساتھ انہوں نے مملکت امورکی تربیت پائی۔ خواجہ محمود گاوان کو تجارت پر فطری لگاؤ تھا۔ کچھ تو اس لگاؤ کی وجہ سے اور کچھ زمانے کے سیاسی حالات کی وجہ سے خواجہ صاحب کو اپنا وطن چھوڑ نا پڑا۔ خواجہ صاحب خلیج فارس کو عبور کرتے ہوئے ہندوستان پہنچے۔ سب سے پہلے شاہ محب اللہ کرمانی ؒ جیسی با کرامت شخصیت سے ملاقات کی کیونکہ علاؤالدین احمد شاہ ثانی کی حکومت کا دبد بہ پھیلاہواتھا۔ جب بادشاہ وقت نے عماد الدین کی علمیت اور ذہانت سے متاثر ہوکر اپنے دربار میں جگہ دی تو عمادالدین نے بھی اسی عزت و اعتماد کو برقرار رکھا اور منصب ہزاری کو قبول کرلیا اور اپنے تجارتی پیشے کو رد کرتے ہوئے سلطنت بہمنیہ کی عروج کی طرف اپنا قدم بڑھایا ۔عمادالدین کے مشورے سے بہمنی سلطنت اپنے کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے آگے بڑھے۔علاؤالدین شاہ ثانی کے بعد ہمایوں شاہ بہمنی تخت نشین ہوا تو خواجہ محمود گاوان کو ’’ملک التجار‘‘کے خطاب سے نوازا گیا اور اپنا وکیل وطرف دار (صوبہ دار یا گورنر) بیجاپور مقرر کیا۔ خواجہ نے ہمایوں کی موت تک اسی سلطنت میں گورنر کی خدمات انجام دیں ۔ ہمایوں کی موت کے بعد اس کا 8سالہ بیٹا ’’نظام شاہ‘‘ تختہفیروزہ پر تاج پوشی ہوئی ۔اس کی ماں ملکہ مخدومہ جہاں عرف نرگس اس کی نگران کا ر مقرر ہوئی۔ اسی دور میں خواجہ محمود گاوان نے اپنی وفادارانہ خدمات کے صلے میں ’’جملتہ الملک و وزیر کُل ‘‘ کا خطاب پایا اور بیجاپور کی طرف داری پر مامور رہے۔ جب کبھی نظام شاہ تخت فیروزپر جلوہ ا فروز ہوتا تو اس کے دائیں بائیں سلطنت کے دو اہم آدمی کھڑے ہوتے ۔ سیدھے جانب خوابہ جہاں ترک تو بائیں جانب خوابہ عمادالدین محمود گاوان۔ دربار شاہی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالے رہتے۔
نظام شاہ کے انتقال کے بعد اس کا چھوٹا بھائی محمود شاہ 9سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ مخدومہ جہاں ہی سلطنت کی نگران مقرر رہی اور یہی دونوں حضرات تخت فیروز ہ پر مقرر رہے (جیسے شہنشاہ ہندوستان جلال الدین محمد اکبر کا اتالیق بیرم خاں تھا)خواجہ جہاں درباری سازشوں کا شکار ہو کر قتل ہوئے امور سلطنت خواجہ محمود گاوان کو سونپ دیاگیااور امیرالامراء کے ساتھ ساتھ خواجہ کے خطاب سے سرفراز کیا ۔1469ئمیں سلطنت بہمنی کے علاقوں میں کو ہکن اور گھاٹ کے لوگوں نے بغاوت کیلئے سر اُٹھایا تو محمود گاوان نے سر کو بی کی اور کنان نامی قلعہ پر قبضہ کر کے بہمنی کا پر چم لہرایا۔ کامیانی پرمخدومہ جہاں نے محمود گاوان کو منہ بولا بھائی کہا تو وہ سلطنت بہمنیہ کے سب سے طاقتور اور بااقتدار شخصیت بنے۔
عمادالدین خواجہ محمود گاوان نہ صرف کامیاب جنرل بلکہ بڑے مدبر اور سیاست داں بھی تھے۔ سلطنت کی بقاء کیلئے اطراف واکناف دوستانہ فضاء اور ساز گار ماحول پیدا کیا تھا۔ ان کی خانگی زندگی بہت پاک وصاف اور سادہ تھی ۔ جب و ہ وزارتی اجلاس کرتے تو بڑے بڑے درباری اُن کے سامنے آتے ہوئے گھبراتے لیکن اُن کے گھر کے دروازے سب کیلئے کھلے تھے۔ گھریلو و عام زندگی میں یہ سادہ وبے لوث درویشانہ زندگی بسر کرتے ۔ اپنے تجارتی سفر کی آمدنی اتنی تھی کہ عام زندگی میں اپنا ہی پیسہ خرچ کرتے ۔ اپنی فر صت کے اوقات میں مسجد کی طرف دوڑتے یا مدرسہ میں عالموں و فاضلوں اور ادیبوں کی صحبت میں ان سے مباحثے یا وعظ سنتے ۔ خود خواجہ صاحب کی ذاتی کتب خانہ میں تین ہزار کتابیں تھیں۔ انہوں نے اپنی دولت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ایک درویشاں اور دوسرا خزانہ شاہی یا سرکاری ۔وہ ہر ضرورت مندکی حاجت روائی میں پہل کیا کرتے تھے اور راتوں میں بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں گھومتے ، اپنے ساتھ ڈھیر سارے سونے کے سکوں کی تھیلیاں لے نکلتے اور پریشان لوگوں کی بے نوائی و دستگیری کرتے لیکن اُس مدد
یا عطیہ کو بادشاہ کے نام سے جوڑ دیتے تاکہ و ہ دست بہ دعا گو رہے۔
عمادالدین خواجہ محمود گاوان کی صلا حیت کے کئی رخ ہیں کہ وہ ایک بڑے عالم تھے اور ریاضی پر عبور حاصل تھا۔ ایک بڑے شاعر ادیب ہونے کے علاوہ ایک بلند پایہ خوشنویس بھی تھے۔ آپ نے اپنے خطوط کے نمونوں کی کتا بی صورت دی تھی اور اس کا نام ’’ریاض الانشا‘‘رکھا۔ اور ایک کتاب انشاء پر بھی لکھی تھی جس کا نام ’’مناظرُالانشاء تھا‘‘ اس کے ساتھ تعلیم و تعلم سے عشق کے اظہار کو مدرسہ کی شکل دی جو دو سال 9مہینے عرصہ یعنی1472ئمیں مکمل ہوا جو قلعہ بیدر کے باہر تھا(ابھی فصیل کا احاطہ تعمیر نہ تھا۔) عمارت تین منزلہ بنی۔ دونوں مینار 100,100فٹ اُونچے بنے اور میناروں کے بیچ پیشانی پر چینی کاری سے عربی رسم الخط کے ساتھ 24ویں پارے کی 29ویں آیت تحریر کروائی۔
سر رچر ڈٹمپل نے اپنے روزنامچہ میں اسی عمارت کے متعلق یوں لکھا ہے کہ یہ عمارت عمدہ اور بے مثل ہے۔ خوبصورتی اور استحکام کے لحاظ سے فقید المثال ہے۔ اس
عمارت پر چینی کا کام تھا ۔جب سورج کی کر نیں اس پر پڑتی تھیں تو ایسا معلوم ہوتاکہ دوسراسورج طلوع ہو رہا ہے۔
مدرسہ محمود گاوان کی وجہہ سے ایشیا میں خوبصورت شہر بیدر کہلایا جیسے یورپ ،پیرس کی وجہہ سے خوبصورت کہلایا۔ یونیورسٹی کے احاطے میں ایک بورڈنگ ہاوز رہائش کا انتظا م تھا۔ یو نیورسٹی کے خرچ و اخراجات کیلئے محمود گاوان اپنی ذاتی جائید اد کو وقف کیا ۔ اس جامعہ مدرسہ محمود گاواں(یو نیورسٹی ) میں عربی ،فارسی، ترکی کے علاوہ سنسکرت ،علوم منطق ،فلسفہ ہیئت، نجوم، ریاضی،جغرافیہ ،تاریخ،سائنس ،مو سمیات کے علاوہ علمِ معقول و منقول کا بھی درس دیا جاتا تھا۔ مدرسہ میں اخلاقیات و روحانیت کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ اسکے علاوہ یہاں معاشیات اور سیاست کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ سب سے اہم علم قرآن و حدیث کے تحقیقی شعبے کا کام بھی جاری تھا۔ اس کے علاوہ ذہنوں کو ایجادی اور اختراعی بنایا جاتا تھا اوراس کے ساتھ ساتھ شعبہ سائنس و فلکیات کے ذریعہ نئی نئی تحقیقات کی جاتی تھیں حتیٰ کہ دنیا کی سب سے پہلی گھڑی (سورج کی گر می سے چلنے والی (Solar Systemکی ایجاد کا سہرا محمود گاواں کے سر ہی جاتا ہے۔ محمود گاوان خود بھی ایک اسکا لر کی حیثیت سے یونیورسٹی میں لیکچرس دیا کرتے تھے۔
محمود گاواں کے کار ناموں نے عوام کا دل موہ لیا تھا۔لیکنحاسدوں کے دلوں میں نفرت بڑھتی گئی 1481ء کو محمد شاہ ثانی کے عہد میں محمود گاوان کے غلام کو ایک روز ظریف الملک دکنی اور مفتاح جشی نے بڑے اہتمام سے مجلس شراب خوری سے آراستہ کیا ۔وہ تین چارجا م کے بعد غلام بدمست ہو گیا تو حاسدوں نے ایک سادہ کاغذ اس کے سامنے پیش کردیا اور نہایت چرب زبانی سے کہنے لگے کہ ہمارے ایک عزیز دوست کی جرأت ہے۔ اکثر دیوانی کے عہدہ داروں نے اس پر دستخط کئے ہیں مگر اس پر محمود گاواں کی مہر بھی ہو جاتی تو بہت اچھا تھا۔ غلام شراب خوری کی مد ہوشی میں محمود گاواں کی مہر کا غذ پر لگادی اور اسی سارے کا غذ پر محمود گاواں کی خطاطی کی شکل میں راجہ اُڑیسہ کے نام خط لکھا اور یہ خط
محمد شاہ ثانی کی نظر کردی۔ خط ملا خطہ ہو ۔
’’محمد شاہ لشکری کی شراب خوری اور ظلم و ستم سے ہم بہت تنگ آگئے ہیں اگر آپ اس موقع پر حملہ آور ہوں تو فتح یقینی ہے مملکت بہمینہ میں جو اقتدار مجھے حاصل ہے اس سے آپ بے خبر نہ ہونگے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ امراء اور سید سالاروں کو بغاوت پر آمادہ کر سکتا ہوں۔ راجمندری پر کوئی ہو شیار صوبہ دار نہیں آپ بلا کھٹکے حدود سلطنت میں داخل ہوسکتے ہیں۔ سلطان محمد شاہ کو نکال باہر کر کے ہم مملکت دکن تقسیم کرلیں گے۔‘‘
بحوالہ ’’محمود گاوان۔ظہیرالدین
اِس خط کو حاسدوں نے محمد شاہ ثانی کے دربار میں پیش کردی ۔بادشاہ پرتو پہلے سے ہی حاسدوں کے کہنے پر سازشوں کا جادو اثر کرگیا تھااور بادشاہ محمود گاوان سے بد ظن ہو چکا تھا۔ محمود گاوان کے کچھ مخلص دوستوں کو یہ پتہ چلا تو خواجہ صاحب کو روکنے کی کوشش کی لیکن محمود گاوان یہ کہا۔
چوں شہید عشق دردنیاو عقبے سر خروست خوش دمے باشد کہ مارا کشت زیں میدان پرند
بحوالہ ’’تذکرہ محمود گاواں۔ نثار احمد کلیمؔ
ا س کے بعد دوستوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے۔
’’میری داڑھی کے بال سلطان کے آباء واجد اد کی خدمت میں سفید ہوئے ہیں اگر موجود ہ سلطان کے حکم سے میرے ہی خون سے سرخ ہوتے ہیں تو ہونے دیجئے مجھے یہ پسند ہے نہ کہ بھاگ جاؤں ۔ میرا سر میرے جسم سے جدا ہوکر بھی سلطان سے وفادار رہے گا۔’’
بحوالہ ’’یاد گار محمود گاواں۔مرتبہ، مولوی محمد شفیع الدین صاحب ایڈوکیٹ
5 صفر 886 ھ 14اپریل 1481ء کے دن محمد شاہ ثانی شرا بخوری میں مست مگن بیٹھا تھا حاسدوں نے اس خط کو دربار میں پیش کر دیا۔ خط کی تحریر کو دیکھ حیران و پریشان ہوا اور بغیر تحقیق کئے محمود گاوان کو دربار میں طلب کیا ۔ محمد شاہ ثانی وزیر اعظم سے سوال کیا ’’جو شخص اپنے آقا کے ساتھ نمک حرامی کرے اس کی کیا سزا ہے؟ ‘‘ محمود گاواں نے کھلا جواب دیتے ہو ئے عرض کیا’’اگر نمک حرامی ثابت ہو جائے تو ایسے بد نصیب کو سزا ئے شمشیرآبدار کے اور کیا ہوگی ‘‘ اسی بات پر بادشاہ نے جو غصہ و نشہ میں بد مست تو تھاہی اپنے غلام جو ہر کو محمود گاوان کی قتل گردن اُڑادینے کا اِشارہ کر کے محل شاہی میں چلا ۔چند ہی لمحوں میں جوہر کی شمشیر عمادالدین خواجہ محمود گاوان کی گردن پر پڑی اور وہیں شہید ہوگئے۔
عماد الدین خواجہ محمود گاوان اصل میں ایک ذی اشر شخصیت تھے اسکے علاوہ وہ دیگر شعبہ جات میں بھی اپنے ہنر کا لوہا منوا چکے تھے۔ وہ تجارت ، شاعری ،خوشی نویسی ، ذی علم اُستاد اور وزیرِ کُل کی حیثیت میں اپنی ایک چھاپ چھوڑ چکے ہیں۔ جو شخص ہر شعبہ میں کامیاب رہا اُس شخص کے شہید ہونے کے بعد محمد شاہ ثانی تحقیق کرنے نکلا۔ تحقیق کیلئے سب سے پہلے محمود گاوان کے غلام خزانے دار نظام الدین گیلانی کو دربار میں طلب کیا۔ سوال ہو اغدار انِ بہمنیہ وزیر اعظم نے کتنا خزانہ جمع کیا؟۔اُسی غلام خزانہ نے کہا۔الفاظ ملاحظہ
ہوں۔
’’جہاں پناہ! خواجہ کے دو خزانے تھے ایک سرکاری دوسرا خانگی دونوں کا حساب کتاب اور کھاتہ جداگانہ ہے ۔ سرکاری خزانے میں ہاتھی گھوڑوں کا ر زوقان کے زین ، عماریاں، سپاہیوں اور افسروں کی وردیاں اور ان کے اخراجات کیلئے نقو درہتے ہیں۔ اس وقت حساب میں ایک ہزار لاری اور تین ہزارہون موجود ہیں یہ سب سرکارکی دولت مدار کی مِلک ہیں اور وہ حاضر ہیں ۔ رہا خواجہ کی ذاتی خزانہ، تو میرا آقا جب دکن آیاتھا تو اپنے ساتھ چالیس ہزار لاری لایا تھا جسے اس نے تجارت میں لگادیا تھا اس وقت اس رقم میں صرف تین سولاری جمع ہیں۔ سر کار خود ملا حظہ فرمالیں۔ اگر اس رقم سے ایک حبہ بھی زیادہ ہوتو میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دےئے جائیں۔ روپیئے سے اس کی جو آمدنی ہوتی تھی اس میں سے صرف 12لاری روزآنہ اپنے خرچ میں لاتا تھا۔
بحوالہ ’’یاد گار محمود گاواں۔مرتبہ، مولوی محمد شفیع الدین صاحب ایڈوکیٹ
اس تحقیق کے علاوہ دوسرے طریقہ سے بھی تحقیق کرنے کے بعد بادشاہ پر بہت بڑا اثر ہوا اور اس کے کفارہ میں عمادالدین خواجہ محمود گاوان کی لاش مصطفی نگر کو نڈا پلی سے بیدر روانہ کر کے 5صفر 887کو محمد شاہ لشکری بھی اس سلطنت کو چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا۔ یادگار محمود گاوان میں پرو فیسر ہارون خاں شیرانی لکھتے ہیں۔ملاحظہ ہو۔
’’دارالحکومت پہنچ کر بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ خواجہ کی والدہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کر رہی ہیں کہ بادشاہ نے میرے بیٹے کو ناحق قتل کرادیا اور یہ سن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شاہ کی موت کا فرمان صادر کررہے ہیں۔ بادشاہ ہڑ بڑا کرجاگ اُٹھا اور اس کو احساس ہونے لگا کہ میرے گلے میں گویاپھانسی کا پھندا پڑا ہے اب کسی رُت اسی سے چھٹکارا نہیں پا سکتا یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ محمد شاہ لشکری خواجہ کی شہادت سے پورے ایک سال قمری سال کے بعد اسی تاریخ یعنی 5صفر 887ھ کو خو د بھی داعی اجل کو لبیک کہا‘‘
بحوالہ ’’یاد گار محمود گاواں۔مرتبہ، مولوی محمد شفیع الدین صاحب ایڈوکیٹ
اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے ۔ عمادالدین خواجہ محمود گاوان کی موت کے بعد بیدر عروج سے زوال کی طرف دوڑتا چلاگیا ۔ محمد شاہ ثانی کے بعدمختلف بادشاہوں کے ادوار گزرے۔ بہمنی دور کے آخری بادشاہ نے اپنی زندگی سے مجبور ہوکر زہرکھا کر خود کشی کرلی ۔کلیم اللہ شاہ کی موت پر سلطنت کے پانچ حصہ ہوئے اور بیدر پر برید شاہی کا سکہ چل پڑا ۔علی برید کے عہد میں فصیل بنوانے کیلئے بیدر کے کئی گنبدوں کو منہدم کیا گیا جس میں محمود گاوان کی بھی تھی۔ عہد اورنگ زیب کے گیارھویں دارالقلعہ دارخان بن حسام اللہ خاں مدرسہ کے جنوبی حصہ میں اصلاح بارودرکھی گئی طلبہ کو پریشانی بھی ہوئی تو اس کی خبر دہلی کو بھی دی گئی لیکن کچھ نہ ہو سکا ۔1698ء 11رمضان کی تراویح ہورہی تھی اور بونداباری بھی چل رہی تھی اسی اثناء میں زور دار بجلی کڑکی اور وہ بارود کے ملبہ میں چنگاری پیدا ہوئی اور ایک زوردار دھما کے کے ساتھ دھماکہ ہوگیا جنوب کے سارے مصلی اس ملبے کے نیچے دب کر شہید ہوگئے ۔ کئی مصلیان قعدہ میں کلمہ شہادت کی اُنگلی اُٹھاتے دارِ فانی کو کوچ کرگئے۔

 

Sabiha Saba صبیحہ صبا کی غزل 

بظاہر رونقوں میں بزم آرائ میں جیتے ہیں

حقیقت ہے کہ ہم تنہا ہیں ، تنہائ میں جیتے ہیں

ہمارے چار سو رنگیں محل ہیں تیری یادوں کے

تیری یادوں کی رعنائ میں ِِ زیبائ میں جیتے ہیں

 خوشا ہم امتحان دشت گردی کے نتیجے میں

بصد اعزازمشق آبلہ پائ میں جیتے ہیں

ستم گاروں نے آیئن وفا منسوخ کر ڈالا

مگر کچھ لوگ ابھی امید اجرائ میں جیتے ہیں

ادھر ہر آن استقبال افکار تر وتازہ

ادھر ہم سرنگوں ماضی تمنائ میں جیتے ہیں

مقفل ہیں ادھر تو شہر دل کے سارے دروازے

ادھر ہم ہیں کہ اک شوق پزیرائ میں جیتے ہیں

نہ ہے یہ دور پتھر کا نہ کاٹھی کا زمانہ ہے

کہ ہم تہذیب کے عہد کلیسائ میں جیتے ہیں

یہاں رائج ابھی تک ہے وہی قانون جنگل کا

  جو ٹھٹھکے پیش قدمی میں وہ پسپائ میں جیتے ہیں

اگر حق گوئ قیمت ہے متاع لطف یاراں کی

تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائ میں جیتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرسلہ ۔۔۔۔فرزانہ اعجا