Ishrat Rahmani

ادیب، مؤرخ، نقاد اور براڈ کاسٹر عشرت رحمانی کا اصل نام امتیاز علی خان تھا اور وہ Ishrat Rehmani16 اپریل 1910ء کو رام پور (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے 100 سے زیادہ کتابیں یادگار چھوڑیں جن میں بیشتر تاریخی اور سوانحی موضوعات پر ہیں۔ انہوں نے اردو ڈرامے کی تاریخ اور تنقید پر بھی بڑا وقیع کام کیا اور اردو ڈرامہ کا ارتقا اور اردو ڈرامہ: تاریخ و تنقید تحریر کیں۔ ان کی خودنوشت سوانح عمری عشرت فانی کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔
٭20 مارچ 1992ء کو عشرت رحمانی کراچی میں وفات پاگئے۔ کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

Courtesh Waqar Zaidi 

Advertisements

Shabnam Shakeel

Shabnam Shakeelشبنم شکیل
شبنم شکیل نامور شاعر اور نقاد سید عابد علی عابد کی صاحب زادی تھیں ۔ وہ 12 مارچ 1942 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے شعری مجموعے شب زاد، اضطراب اور مسافت رائیگاں تھی اور نثری مجموعے تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے ۔۔۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔۔ شبنم شکیل 2 مارچ 2013 کو مختصر علالت کے بعد کراچی کے ضیاالدین ہسپتال میں وفات پاگئیں ۔ وہ اسلام آباد میں آسودہ خاک ہیں ۔

Dr Ghulam Jilani Barq

Dr Ghulam Jilani Barqڈاکٹر غلام جیلانی برق
٭ معروف عالم دین، ماہر تعلیم، دانشور، مصنف، مترجم اور شاعر ڈاکٹر غلام جیلانی برق 26 اکتوبر 1901ء کو کنٹ، پنڈی گھیپ ضلع کیمبل پور میں پیدا ہوئے تھے۔ عربی، فارسی اور اردو میں اسناد فضیلت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے عربی اور فارسی میں ایم اے کیا۔ 1940ء میں انہوں نے امام ابن تیمیہ کی زندگی اور کارناموں پر تحقیقی مقالہ رقم کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور پھر تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے مختلف موضوعات پر چالیس کے لگ بھگ کتابیں تحریر کیں جن میں دو اسلام، دو قرآن، فلسفیان اسلام، مؤرخین اسلام، حکمائے عالم، فرمانروایان اسلام، دانش رومی و سعدی، بھائی بھائی، ہم اور ہمارے اسلاف اور میری آخری کتاب خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
٭12 مارچ 1985ء کو ڈاکٹر غلام جیلانی برق اٹک میں وفات پاگئے اور قبرستان عیدگاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔

 

Mumtaz Shireen

ممتاز شیریںMumtaz Shireen
٭ اردو کی نامور نقاد‘ افسانہ نگار اور مترجم محترمہ ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کو ہندو پور (آندھراپردیش) میں پیدا ہوئی تھیں۔ ممتاز شیریں کے افسانوی مجموعوں میں اپنی نگریا‘ حدیث دیگراں اور میگھ ملہار شامل ہیں جب کہ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے معیار اور منٹو نہ نوری نہ ناری کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ انہوں نے 1947ء کے فسادات کے موضوع پر لکھے گئے اردو کے نمائندہ افسانوں کا ایک انتخاب ظلمت نیم روز کے نام سے اور جان اسٹین بک کے مشہور دی پرل کا اردو ترجمہ درشہوار کے نام سے کیا تھا۔ وہ اردو کا معروف ادبی جریدہ نیا دور بھی شائع کرتی رہی تھیں۔
محترمہ ممتاز شیریں نے 11 مارچ 1973ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور اسلام آبادکے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں

Haneef Ramay

Haneef Ramay

حنیف رامے
٭ پاکستان کے نامور ادیب، شاعر، مصور، خطاط، دانشور اور سیاستدان حنیف رامے کی تاریخ پیدائش 15 مارچ 1930ء ہے۔
حنیف رامے تحصیل ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ماسٹرز کرنے کے بعد وہ اپنے خاندانی کاروبار نشر و اشاعت سے منسلک ہوگئے، اسی دوران انہوں نے اپنی مصوری کا بھی آغاز کیا اور اردو کے مشہور جریدے سویرا کی ادارت کے فرائض سنبھالے۔ بعدازاں انہوں نے ایک سیاسی اور ادبی جریدہ نصرت جاری کیا۔1960ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی قائم کی تو وہ نہ صرف اس کے بنیادی ارکان میں شامل ہوئے بلکہ انہوں نے اس پارٹی کے منشور اور پروگرام کی تیاری اور ترویج میں بھی بڑا فعال کردار ادا کیا اوراپنے جریدے نصرت کو سیاسی ہفت روزہ میں تبدیل کرکے اسے پارٹی کا ترجمان بنادیا۔ جولائی 1970ء میں انہوں نے روزنامہ مساوات جاری کیا۔ ان انتخابات میں حنیف رامے بھی پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1972ء میں وہ پنجاب کے وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور 1974ء میں وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔ 1976ء میں وہ بعض اختلافات کی وجہ سے پاکستان پیپلزپارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ (پگاڑا گروپ) میں شامل ہوگئے۔ 1977ء میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت مساوات پارٹی کے نام سے تشکیل دی۔ 1988ء میں وہ دوبارہ پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے اور 1993ء میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کے منصب پر فائز ہوئے۔
اس دوران حنیف رامے کے تخلیقی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔انہوں نے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں پنجاب کا مقدمہ، اسلام کی روحانی قدریں: موت نہیں زندگی اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک اچھے مصور ہونے کے ساتھ ساتھ مصورانہ خطاطی کے ایک نئے دبستان کے بانی بھی تسلیم کئے جاتے ہیں۔
یکم جنوری 2006ء کو حنیف رامے لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں قبرستان ڈیفنس میں آسودۂ خاک ہوئے۔