Poets’ tribute to Dr. Saleem Wahid Saleem & Mrs Umme Habiba

POETIC TRIBUTES TO DR. SALEEM WAHID SALEEM AND BEGUM UMME HAIBA SAHIBA  DR. AHMAD ALI BARQI AZMI (DELHI), ZIA SHAHZAD SHAHZAD (KARACHI) AND NAZAKAT ALI AAZIM (CHICAGO, ILLINOIS) GRAPHICS COURTESY POET MOHD ALEEMULLAH KHAN WAQAAR (SAHARANPUR-INDIA)
************************************
MERA SHER IS TARAH HAI
JIN SAY HAY YE WUJOOD, ZABAAN HAI, KALAAM HAI
UN DO AZEEM ROOHON KO MERA SALAAM HAI
**********************************

Zia Shahzad Shahzad (Karachi)

مسلم سلیم میرا بھی پہنچے انہین سلام

۔ ۔ ۔ بیشک عظیم روحوں کا جنت ہی ہے مقام ۔

۔ ۔ ایسی عظیم روحیں نہ ہوتیں تو سوچیں آج

۔ ۔ ۔ ۔ مسلم بھلاکہاں سے یہ پاتا عروج و بام

۔ ۔ ۔ ان کی دعائوں سے ہی مقدر سنورتا ہے

۔ ۔ ۔ ۔ مسلم ہوا ہے آج زمانے میں نیک نام

۔ ۔ ۔ امّ حبیبہ ،ڈاکٹر واحد سلیم کو

۔ ۔ ۔ دنیا رکھے گی یاد بہت ، پائیں گے دوام

۔ ۔ ۔ شہزاد مجھ کو پہلے ہی اندازہ تھا یہی

۔ ۔ ۔ مسلم کے جس وجہ سے ہیں دیوانے خاص و عام

۔ ۔ ۔ ۔ ( مسلم بھائی آپ کے والدین مرحومین میرے لئے بھی انتہائی محترم و مقدم ہیں ، ان کے حضور اس ناچیز کا نزرانہ۶ عقیدت پیش خدمت ہے ، قبول فرمائیں ۔ ان کی مغفرت کے لئے دعاگو رہوں گا ۔ ۔ ۔ ) ضیا ۶ شہزاد

*****************************************************

Ahmad Ali Barqi Azmi (Delhi)

یہ عکس والدین کے مسلم سلیم کے

دنیائے رنگ و بو میں ہیں اک اُن کے یادگار

والد تھے اُن کے ایک ادیبِ سخن شناس

مسلم سلیم جن کے ہیں فرزند ہونہار

اُمِّ حبیبہ والدہ اُن کی تھیں پاکباز

فززند جن کا آج جہاں میں ہے نامدار

ہیں اپنے خانداں کی وراثت کے وہ امیں

وردِ زباں ہیں جن کے سبھی آج شاہکار

والد تھے تھے ان کے فارسی دانی میں باکمال

خیام نو سے جن کا تبحر ہے آشکار

***************************************** ***

Zia Shahzad Shahzad (Karachi)

کیا خوب برقی اعظمی ہے آپ کا خراج

بیشک سلیم بھائی ہیں فرزندِ ہونہار

تھے ڈاکٹر سلیم بڑے اک سخن طراز

مسلم سلیم عکس ہیں اور ان کی یادگار ۔

**************************** **

Nazakat Ali Aazim (Chicago, Illinois)

بر جستہ دعا

برائے مغفرت والدین کریمین للاخ مسلم سلیم مد ظلہ

پسرِ عظیم جن کے ھاں آپ سا ھُوا

لب پہ میرے غفر کی ان کے لئے دُعا

صد بار کروٹیں وہ لیں جو بہشت میں

جیسے کئے وہ آپ سے رکھے اُنہیں خُدا

نزاکت علی عازم

Dr. Saleem Wahid Saleem poem Azeem Shafqat

عظیم شفقت
ڈاکٹر سلیم واحد سلیم
زمین پر جا بہ جا پہاڑوں کے سلسلے ہیں
جو اپنے دامن میں سبزہ و گل
اور اپنی تہہ میں کروڑوں الماس و لعل رکھ کر
طویل سایوں کے فرش کھولے ہوئے کھڑے ہیں
گھنے درخت اپنے سبز پتوں،حسیں شگوفوں سے خیمۂِ سایہ دار بن کر
لچکتی شاخوں کی مورچھل لے کے حدتِ آفتاب کے سامنے سپر ہیں
زمین بھی سینہ کھولتی ہے
ہر ایک دانے کو اپنے دل میں
بٹھا کے پودا، درخت پھل پھول کے منازل بھی بخشتی ہے
اور آسماں کی بلندیوں کی سمیٹنے کی بلندیاں بھی
نمو کے اندازِ بیکراں میں ابھارتی ہے
ہر ایک جھیل اور ہر ایک دریا
ہر آبشار اور ہر اک سمندر
یہی ترانہ سنا رہا ہے
کہ کوئی پیاسا نہ رہنے پائے
کہ تشنگی کا شکنجۂِ بے اماں کسی کو نہ کسنے پائے

عظیم فطرت کی شفقتوں میں
ہر اک کا حصہ مساویانہ
کروڑوں سالوں، کروڑوں فصلیں
اُگیں مگر آدمی ہے اب تک
خود آدمی ہی کی چیرہ دستی وغصب کوشی کا ہی نشانہ

ہماری انسانیت یہی ہے
کہ ہم اسی شفقتِ معظم

اسی محبت، اسی صداقت کو سو بہ سو کو بہ کو لٹائیں