Mumtaz Shireen

ممتاز شیریںMumtaz Shireen
٭ اردو کی نامور نقاد‘ افسانہ نگار اور مترجم محترمہ ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کو ہندو پور (آندھراپردیش) میں پیدا ہوئی تھیں۔ ممتاز شیریں کے افسانوی مجموعوں میں اپنی نگریا‘ حدیث دیگراں اور میگھ ملہار شامل ہیں جب کہ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے معیار اور منٹو نہ نوری نہ ناری کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ انہوں نے 1947ء کے فسادات کے موضوع پر لکھے گئے اردو کے نمائندہ افسانوں کا ایک انتخاب ظلمت نیم روز کے نام سے اور جان اسٹین بک کے مشہور دی پرل کا اردو ترجمہ درشہوار کے نام سے کیا تھا۔ وہ اردو کا معروف ادبی جریدہ نیا دور بھی شائع کرتی رہی تھیں۔
محترمہ ممتاز شیریں نے 11 مارچ 1973ء کو اسلام آباد میں وفات پائی اور اسلام آبادکے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں

Munir Niazi ,,,, مُنیر نیازی

مُنیر نیازی

بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہُوئے رہنا
اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہُوئے رہنا

چَھلکائے ہُوئے چلنا خوشبو لبِ لعلیں کی
اِک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہُوئے رہنا

اُس حُسن کا شیوہ ہے جب عِشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا، شرمائے ہُوئے رہنا

اِک شام سی کر رکھنا، کاجل کے کرشمے سے !
اِک چاند سا آنکھوں میں، چمکائے ہُوئے رہنا

عادت ہی بنا لی ہے، تم نے تو مُنیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا، اُکتائے ہُوئے رہنا

مُنیر نیازی