Mahmood Gawan

تاریخی یونیور سٹی محمود گاوان بیدر
جمیل احمد
ایم ۔اے، سیٹ،پی ایچ ۔ڈی اسکالر
اُردو لکچرار 9343312017
ڈاکٹر بی۔آر۔امبیڈ کر ڈگری کالج ،بیدر (کرناٹک)

ہندوستان نے کئی ذی اثر اور قدآور شخصیتوں کو پیدا کیا اور دوسرے ممالک کے لوگو ں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ وہ اپنے کا رہائے نمایاں انجام دیتے گزر گئے اور اس ملک نے ان کو فراموش کردیا۔ لیکن دو شخصیات ایسی ہیں جن پر ہر ہندوستانی کو فخر ہونا چاہیئے۔ محمود گاوان اورسر سید احمد خان جنہوں نے تعلیم کو تر جیح دی ۔ بیدر کی تاریخ تقریباََ دو ہزار سال پرانی ہے۔ اس شہر کا ذکر ہندؤں کی مشہور کتابوں ’’رامائن و مہابھارت ‘‘ میں بھیموجود ہے ۔ تاریخ میں بیدر 5000قبل مسیح پہلے ایک بانس کا جنگل کہلاتا ہے جو سنسکرت میں ویدُر کہا جاتا ہے۔ چند لوگوں سے بساچھوٹا گاؤں اور شہر بنا یہاں کے راجاکا نام بیدر تھا اُس نے اس شہر کا نام بیدر رکھا۔بہمنی نے سلاطین میں احمد شاہ بہمنی بیدر شہر سے 12کلو میٹر دوُر نعمت آباد میں قلعہ بنانے کی کوشش کی لیکن ایرانی انجینئر نے ندی کی زر خیزی کی وجہ سے مٹی میں نمی ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا اور ایک مضبوط قلعہ بنانے سے انکار کیا اور 12کلومیٹر دور پہاڑ (موجودہ بیدر)کی نشاندہی کی ۔1428ئمیں قلعہ کی بنیاد رکھی گئی۔ 1432ء کو قلعہ تعمیر ہوا۔ اِس حکومت کے بعد علاؤالدین احمد شاہ کے عہد میں عمادالدین خواجہ محمود گاوان 1454ء کو بہمنی بندر گاہ مصطفےٰ آباد پہنچے ۔ سلطان شمس الدین محمد شاہ ثانی بہمنی کے عہد میں 1472ء کو محمود گاوان یونیور سٹی کا قیام عمل میں آیا ۔ ویسے ہندوستان میں نالندہ وکرم یو نیورسٹی موجود تھی لیکن اس میں بدھ مت اورجین مت کی مذہبی تعلیم کو تر جیح دی جاتی تھی۔
خواجہ عمادالدین محمود گاوان کی پیدائش گیلان کے ایک قر یہ قاوان میں 1405ء میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم رشتہ داروں کی نگرانی میں اپنے ہی قریہ میں حاصل کی اورچچا کے ساتھ انہوں نے مملکت امورکی تربیت پائی۔ خواجہ محمود گاوان کو تجارت پر فطری لگاؤ تھا۔ کچھ تو اس لگاؤ کی وجہ سے اور کچھ زمانے کے سیاسی حالات کی وجہ سے خواجہ صاحب کو اپنا وطن چھوڑ نا پڑا۔ خواجہ صاحب خلیج فارس کو عبور کرتے ہوئے ہندوستان پہنچے۔ سب سے پہلے شاہ محب اللہ کرمانی ؒ جیسی با کرامت شخصیت سے ملاقات کی کیونکہ علاؤالدین احمد شاہ ثانی کی حکومت کا دبد بہ پھیلاہواتھا۔ جب بادشاہ وقت نے عماد الدین کی علمیت اور ذہانت سے متاثر ہوکر اپنے دربار میں جگہ دی تو عمادالدین نے بھی اسی عزت و اعتماد کو برقرار رکھا اور منصب ہزاری کو قبول کرلیا اور اپنے تجارتی پیشے کو رد کرتے ہوئے سلطنت بہمنیہ کی عروج کی طرف اپنا قدم بڑھایا ۔عمادالدین کے مشورے سے بہمنی سلطنت اپنے کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے آگے بڑھے۔علاؤالدین شاہ ثانی کے بعد ہمایوں شاہ بہمنی تخت نشین ہوا تو خواجہ محمود گاوان کو ’’ملک التجار‘‘کے خطاب سے نوازا گیا اور اپنا وکیل وطرف دار (صوبہ دار یا گورنر) بیجاپور مقرر کیا۔ خواجہ نے ہمایوں کی موت تک اسی سلطنت میں گورنر کی خدمات انجام دیں ۔ ہمایوں کی موت کے بعد اس کا 8سالہ بیٹا ’’نظام شاہ‘‘ تختہفیروزہ پر تاج پوشی ہوئی ۔اس کی ماں ملکہ مخدومہ جہاں عرف نرگس اس کی نگران کا ر مقرر ہوئی۔ اسی دور میں خواجہ محمود گاوان نے اپنی وفادارانہ خدمات کے صلے میں ’’جملتہ الملک و وزیر کُل ‘‘ کا خطاب پایا اور بیجاپور کی طرف داری پر مامور رہے۔ جب کبھی نظام شاہ تخت فیروزپر جلوہ ا فروز ہوتا تو اس کے دائیں بائیں سلطنت کے دو اہم آدمی کھڑے ہوتے ۔ سیدھے جانب خوابہ جہاں ترک تو بائیں جانب خوابہ عمادالدین محمود گاوان۔ دربار شاہی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالے رہتے۔
نظام شاہ کے انتقال کے بعد اس کا چھوٹا بھائی محمود شاہ 9سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ مخدومہ جہاں ہی سلطنت کی نگران مقرر رہی اور یہی دونوں حضرات تخت فیروز ہ پر مقرر رہے (جیسے شہنشاہ ہندوستان جلال الدین محمد اکبر کا اتالیق بیرم خاں تھا)خواجہ جہاں درباری سازشوں کا شکار ہو کر قتل ہوئے امور سلطنت خواجہ محمود گاوان کو سونپ دیاگیااور امیرالامراء کے ساتھ ساتھ خواجہ کے خطاب سے سرفراز کیا ۔1469ئمیں سلطنت بہمنی کے علاقوں میں کو ہکن اور گھاٹ کے لوگوں نے بغاوت کیلئے سر اُٹھایا تو محمود گاوان نے سر کو بی کی اور کنان نامی قلعہ پر قبضہ کر کے بہمنی کا پر چم لہرایا۔ کامیانی پرمخدومہ جہاں نے محمود گاوان کو منہ بولا بھائی کہا تو وہ سلطنت بہمنیہ کے سب سے طاقتور اور بااقتدار شخصیت بنے۔
عمادالدین خواجہ محمود گاوان نہ صرف کامیاب جنرل بلکہ بڑے مدبر اور سیاست داں بھی تھے۔ سلطنت کی بقاء کیلئے اطراف واکناف دوستانہ فضاء اور ساز گار ماحول پیدا کیا تھا۔ ان کی خانگی زندگی بہت پاک وصاف اور سادہ تھی ۔ جب و ہ وزارتی اجلاس کرتے تو بڑے بڑے درباری اُن کے سامنے آتے ہوئے گھبراتے لیکن اُن کے گھر کے دروازے سب کیلئے کھلے تھے۔ گھریلو و عام زندگی میں یہ سادہ وبے لوث درویشانہ زندگی بسر کرتے ۔ اپنے تجارتی سفر کی آمدنی اتنی تھی کہ عام زندگی میں اپنا ہی پیسہ خرچ کرتے ۔ اپنی فر صت کے اوقات میں مسجد کی طرف دوڑتے یا مدرسہ میں عالموں و فاضلوں اور ادیبوں کی صحبت میں ان سے مباحثے یا وعظ سنتے ۔ خود خواجہ صاحب کی ذاتی کتب خانہ میں تین ہزار کتابیں تھیں۔ انہوں نے اپنی دولت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ایک درویشاں اور دوسرا خزانہ شاہی یا سرکاری ۔وہ ہر ضرورت مندکی حاجت روائی میں پہل کیا کرتے تھے اور راتوں میں بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں گھومتے ، اپنے ساتھ ڈھیر سارے سونے کے سکوں کی تھیلیاں لے نکلتے اور پریشان لوگوں کی بے نوائی و دستگیری کرتے لیکن اُس مدد
یا عطیہ کو بادشاہ کے نام سے جوڑ دیتے تاکہ و ہ دست بہ دعا گو رہے۔
عمادالدین خواجہ محمود گاوان کی صلا حیت کے کئی رخ ہیں کہ وہ ایک بڑے عالم تھے اور ریاضی پر عبور حاصل تھا۔ ایک بڑے شاعر ادیب ہونے کے علاوہ ایک بلند پایہ خوشنویس بھی تھے۔ آپ نے اپنے خطوط کے نمونوں کی کتا بی صورت دی تھی اور اس کا نام ’’ریاض الانشا‘‘رکھا۔ اور ایک کتاب انشاء پر بھی لکھی تھی جس کا نام ’’مناظرُالانشاء تھا‘‘ اس کے ساتھ تعلیم و تعلم سے عشق کے اظہار کو مدرسہ کی شکل دی جو دو سال 9مہینے عرصہ یعنی1472ئمیں مکمل ہوا جو قلعہ بیدر کے باہر تھا(ابھی فصیل کا احاطہ تعمیر نہ تھا۔) عمارت تین منزلہ بنی۔ دونوں مینار 100,100فٹ اُونچے بنے اور میناروں کے بیچ پیشانی پر چینی کاری سے عربی رسم الخط کے ساتھ 24ویں پارے کی 29ویں آیت تحریر کروائی۔
سر رچر ڈٹمپل نے اپنے روزنامچہ میں اسی عمارت کے متعلق یوں لکھا ہے کہ یہ عمارت عمدہ اور بے مثل ہے۔ خوبصورتی اور استحکام کے لحاظ سے فقید المثال ہے۔ اس
عمارت پر چینی کا کام تھا ۔جب سورج کی کر نیں اس پر پڑتی تھیں تو ایسا معلوم ہوتاکہ دوسراسورج طلوع ہو رہا ہے۔
مدرسہ محمود گاوان کی وجہہ سے ایشیا میں خوبصورت شہر بیدر کہلایا جیسے یورپ ،پیرس کی وجہہ سے خوبصورت کہلایا۔ یونیورسٹی کے احاطے میں ایک بورڈنگ ہاوز رہائش کا انتظا م تھا۔ یو نیورسٹی کے خرچ و اخراجات کیلئے محمود گاوان اپنی ذاتی جائید اد کو وقف کیا ۔ اس جامعہ مدرسہ محمود گاواں(یو نیورسٹی ) میں عربی ،فارسی، ترکی کے علاوہ سنسکرت ،علوم منطق ،فلسفہ ہیئت، نجوم، ریاضی،جغرافیہ ،تاریخ،سائنس ،مو سمیات کے علاوہ علمِ معقول و منقول کا بھی درس دیا جاتا تھا۔ مدرسہ میں اخلاقیات و روحانیت کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ اسکے علاوہ یہاں معاشیات اور سیاست کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ سب سے اہم علم قرآن و حدیث کے تحقیقی شعبے کا کام بھی جاری تھا۔ اس کے علاوہ ذہنوں کو ایجادی اور اختراعی بنایا جاتا تھا اوراس کے ساتھ ساتھ شعبہ سائنس و فلکیات کے ذریعہ نئی نئی تحقیقات کی جاتی تھیں حتیٰ کہ دنیا کی سب سے پہلی گھڑی (سورج کی گر می سے چلنے والی (Solar Systemکی ایجاد کا سہرا محمود گاواں کے سر ہی جاتا ہے۔ محمود گاوان خود بھی ایک اسکا لر کی حیثیت سے یونیورسٹی میں لیکچرس دیا کرتے تھے۔
محمود گاواں کے کار ناموں نے عوام کا دل موہ لیا تھا۔لیکنحاسدوں کے دلوں میں نفرت بڑھتی گئی 1481ء کو محمد شاہ ثانی کے عہد میں محمود گاوان کے غلام کو ایک روز ظریف الملک دکنی اور مفتاح جشی نے بڑے اہتمام سے مجلس شراب خوری سے آراستہ کیا ۔وہ تین چارجا م کے بعد غلام بدمست ہو گیا تو حاسدوں نے ایک سادہ کاغذ اس کے سامنے پیش کردیا اور نہایت چرب زبانی سے کہنے لگے کہ ہمارے ایک عزیز دوست کی جرأت ہے۔ اکثر دیوانی کے عہدہ داروں نے اس پر دستخط کئے ہیں مگر اس پر محمود گاواں کی مہر بھی ہو جاتی تو بہت اچھا تھا۔ غلام شراب خوری کی مد ہوشی میں محمود گاواں کی مہر کا غذ پر لگادی اور اسی سارے کا غذ پر محمود گاواں کی خطاطی کی شکل میں راجہ اُڑیسہ کے نام خط لکھا اور یہ خط
محمد شاہ ثانی کی نظر کردی۔ خط ملا خطہ ہو ۔
’’محمد شاہ لشکری کی شراب خوری اور ظلم و ستم سے ہم بہت تنگ آگئے ہیں اگر آپ اس موقع پر حملہ آور ہوں تو فتح یقینی ہے مملکت بہمینہ میں جو اقتدار مجھے حاصل ہے اس سے آپ بے خبر نہ ہونگے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ امراء اور سید سالاروں کو بغاوت پر آمادہ کر سکتا ہوں۔ راجمندری پر کوئی ہو شیار صوبہ دار نہیں آپ بلا کھٹکے حدود سلطنت میں داخل ہوسکتے ہیں۔ سلطان محمد شاہ کو نکال باہر کر کے ہم مملکت دکن تقسیم کرلیں گے۔‘‘
بحوالہ ’’محمود گاوان۔ظہیرالدین
اِس خط کو حاسدوں نے محمد شاہ ثانی کے دربار میں پیش کردی ۔بادشاہ پرتو پہلے سے ہی حاسدوں کے کہنے پر سازشوں کا جادو اثر کرگیا تھااور بادشاہ محمود گاوان سے بد ظن ہو چکا تھا۔ محمود گاوان کے کچھ مخلص دوستوں کو یہ پتہ چلا تو خواجہ صاحب کو روکنے کی کوشش کی لیکن محمود گاوان یہ کہا۔
چوں شہید عشق دردنیاو عقبے سر خروست خوش دمے باشد کہ مارا کشت زیں میدان پرند
بحوالہ ’’تذکرہ محمود گاواں۔ نثار احمد کلیمؔ
ا س کے بعد دوستوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے۔
’’میری داڑھی کے بال سلطان کے آباء واجد اد کی خدمت میں سفید ہوئے ہیں اگر موجود ہ سلطان کے حکم سے میرے ہی خون سے سرخ ہوتے ہیں تو ہونے دیجئے مجھے یہ پسند ہے نہ کہ بھاگ جاؤں ۔ میرا سر میرے جسم سے جدا ہوکر بھی سلطان سے وفادار رہے گا۔’’
بحوالہ ’’یاد گار محمود گاواں۔مرتبہ، مولوی محمد شفیع الدین صاحب ایڈوکیٹ
5 صفر 886 ھ 14اپریل 1481ء کے دن محمد شاہ ثانی شرا بخوری میں مست مگن بیٹھا تھا حاسدوں نے اس خط کو دربار میں پیش کر دیا۔ خط کی تحریر کو دیکھ حیران و پریشان ہوا اور بغیر تحقیق کئے محمود گاوان کو دربار میں طلب کیا ۔ محمد شاہ ثانی وزیر اعظم سے سوال کیا ’’جو شخص اپنے آقا کے ساتھ نمک حرامی کرے اس کی کیا سزا ہے؟ ‘‘ محمود گاواں نے کھلا جواب دیتے ہو ئے عرض کیا’’اگر نمک حرامی ثابت ہو جائے تو ایسے بد نصیب کو سزا ئے شمشیرآبدار کے اور کیا ہوگی ‘‘ اسی بات پر بادشاہ نے جو غصہ و نشہ میں بد مست تو تھاہی اپنے غلام جو ہر کو محمود گاوان کی قتل گردن اُڑادینے کا اِشارہ کر کے محل شاہی میں چلا ۔چند ہی لمحوں میں جوہر کی شمشیر عمادالدین خواجہ محمود گاوان کی گردن پر پڑی اور وہیں شہید ہوگئے۔
عماد الدین خواجہ محمود گاوان اصل میں ایک ذی اشر شخصیت تھے اسکے علاوہ وہ دیگر شعبہ جات میں بھی اپنے ہنر کا لوہا منوا چکے تھے۔ وہ تجارت ، شاعری ،خوشی نویسی ، ذی علم اُستاد اور وزیرِ کُل کی حیثیت میں اپنی ایک چھاپ چھوڑ چکے ہیں۔ جو شخص ہر شعبہ میں کامیاب رہا اُس شخص کے شہید ہونے کے بعد محمد شاہ ثانی تحقیق کرنے نکلا۔ تحقیق کیلئے سب سے پہلے محمود گاوان کے غلام خزانے دار نظام الدین گیلانی کو دربار میں طلب کیا۔ سوال ہو اغدار انِ بہمنیہ وزیر اعظم نے کتنا خزانہ جمع کیا؟۔اُسی غلام خزانہ نے کہا۔الفاظ ملاحظہ
ہوں۔
’’جہاں پناہ! خواجہ کے دو خزانے تھے ایک سرکاری دوسرا خانگی دونوں کا حساب کتاب اور کھاتہ جداگانہ ہے ۔ سرکاری خزانے میں ہاتھی گھوڑوں کا ر زوقان کے زین ، عماریاں، سپاہیوں اور افسروں کی وردیاں اور ان کے اخراجات کیلئے نقو درہتے ہیں۔ اس وقت حساب میں ایک ہزار لاری اور تین ہزارہون موجود ہیں یہ سب سرکارکی دولت مدار کی مِلک ہیں اور وہ حاضر ہیں ۔ رہا خواجہ کی ذاتی خزانہ، تو میرا آقا جب دکن آیاتھا تو اپنے ساتھ چالیس ہزار لاری لایا تھا جسے اس نے تجارت میں لگادیا تھا اس وقت اس رقم میں صرف تین سولاری جمع ہیں۔ سر کار خود ملا حظہ فرمالیں۔ اگر اس رقم سے ایک حبہ بھی زیادہ ہوتو میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دےئے جائیں۔ روپیئے سے اس کی جو آمدنی ہوتی تھی اس میں سے صرف 12لاری روزآنہ اپنے خرچ میں لاتا تھا۔
بحوالہ ’’یاد گار محمود گاواں۔مرتبہ، مولوی محمد شفیع الدین صاحب ایڈوکیٹ
اس تحقیق کے علاوہ دوسرے طریقہ سے بھی تحقیق کرنے کے بعد بادشاہ پر بہت بڑا اثر ہوا اور اس کے کفارہ میں عمادالدین خواجہ محمود گاوان کی لاش مصطفی نگر کو نڈا پلی سے بیدر روانہ کر کے 5صفر 887کو محمد شاہ لشکری بھی اس سلطنت کو چھوڑ کر دنیا سے چلا گیا۔ یادگار محمود گاوان میں پرو فیسر ہارون خاں شیرانی لکھتے ہیں۔ملاحظہ ہو۔
’’دارالحکومت پہنچ کر بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ خواجہ کی والدہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کر رہی ہیں کہ بادشاہ نے میرے بیٹے کو ناحق قتل کرادیا اور یہ سن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شاہ کی موت کا فرمان صادر کررہے ہیں۔ بادشاہ ہڑ بڑا کرجاگ اُٹھا اور اس کو احساس ہونے لگا کہ میرے گلے میں گویاپھانسی کا پھندا پڑا ہے اب کسی رُت اسی سے چھٹکارا نہیں پا سکتا یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ محمد شاہ لشکری خواجہ کی شہادت سے پورے ایک سال قمری سال کے بعد اسی تاریخ یعنی 5صفر 887ھ کو خو د بھی داعی اجل کو لبیک کہا‘‘
بحوالہ ’’یاد گار محمود گاواں۔مرتبہ، مولوی محمد شفیع الدین صاحب ایڈوکیٹ
اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے ۔ عمادالدین خواجہ محمود گاوان کی موت کے بعد بیدر عروج سے زوال کی طرف دوڑتا چلاگیا ۔ محمد شاہ ثانی کے بعدمختلف بادشاہوں کے ادوار گزرے۔ بہمنی دور کے آخری بادشاہ نے اپنی زندگی سے مجبور ہوکر زہرکھا کر خود کشی کرلی ۔کلیم اللہ شاہ کی موت پر سلطنت کے پانچ حصہ ہوئے اور بیدر پر برید شاہی کا سکہ چل پڑا ۔علی برید کے عہد میں فصیل بنوانے کیلئے بیدر کے کئی گنبدوں کو منہدم کیا گیا جس میں محمود گاوان کی بھی تھی۔ عہد اورنگ زیب کے گیارھویں دارالقلعہ دارخان بن حسام اللہ خاں مدرسہ کے جنوبی حصہ میں اصلاح بارودرکھی گئی طلبہ کو پریشانی بھی ہوئی تو اس کی خبر دہلی کو بھی دی گئی لیکن کچھ نہ ہو سکا ۔1698ء 11رمضان کی تراویح ہورہی تھی اور بونداباری بھی چل رہی تھی اسی اثناء میں زور دار بجلی کڑکی اور وہ بارود کے ملبہ میں چنگاری پیدا ہوئی اور ایک زوردار دھما کے کے ساتھ دھماکہ ہوگیا جنوب کے سارے مصلی اس ملبے کے نیچے دب کر شہید ہوگئے ۔ کئی مصلیان قعدہ میں کلمہ شہادت کی اُنگلی اُٹھاتے دارِ فانی کو کوچ کرگئے۔

 

Advertisements