Shauq Asari

shauq asari copy

Advertisements

Sarwat Zaidi good poet and Urdu lover: Muslim Saleem

مشہور شاعر ثروت زیدی بھوپالی کو شاندار استقبالیہ
بھوپال : نامور شاعر جناب ثروت زیدی بھوپالی کو ہم سخن ویلفئیر سوسائٹی کی جانب سے ۰۳ اپریل ۵۱۰۲ کو گاندھی بھون میں شاندار استقبالیہ دیا گےا جس میں جناب دیوی سرن مہانِ خصوصی تھے جبکہ صدارت مشہور شاعرجناب مسلم سلیم نے فرمائی ۔ مہمانِ ذی وقار پروفیسرحیدر عباس رضوی تھے۔اس موقعہ پر ہاکی اولمپین سید جلال الدین اور محترم اعجاز محمد خان نظامت کے فرائض ڈاکٹر اعظم نے انجام دئے ۔
صدارتی خطبہ میں جناب مسلم سلیم نے کہا کہ اردو ایک زندہ وپائندہ زبان ہے ۔آزادی کے بعد اسکو مٹانے کی مسلسل کوششیں کی گئی ہیں جو اب بھی جاری ہیں۔لیکن اردو مٹنے کے بجائے اور بھی پروان چڑھتی جا رہی ہے ۔ ایسا اس لئے ہے کہ ہندوستان میں ثروت زیدی جیسے اردو کے جاں نثار موجود ہیں جو دامے، درمے، قدمے،سخنے اس کی بقاءاور ارتقا ءکے لےے کوشاں ہیں ۔ان کی خدمات کا جشن اسی کڑی میں ایک اہم قدم ہے۔ اس کے لےے میں ہم سخن ویلفئیر سوسائٹی کے باعزم نوجوان محبانِ اردو کومبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آج ثروت زیدی صاحب کے جشن کے موقعہ پر ان کے تازہ ترین مجموعہ ”منزلوں کے پار“ کا اجراءبھی کےا گےا ہے
مہمانِ خصوصی جناب دیوی سرن نے کہا بھوپال کی ہاکی اور شاعری کے تعلق سے پرانی ےادوں کو تازہ کرتے ہوئے ثروت زیدی کے لکھے ہوئے ہاکی کا ترانہ کو سراہا۔
مہمانِ ذی وقار پروفیسر حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ثروت زیدی شاعرِ فطرت ہیں۔ وہ روزمرہ کے استعمال کی سادہ زبان استعمال کرتے ہیںجن میں بھوپال کے تہذیب و تمدن کی عکاسی ہوتی ہے۔
شعری نشست
استقبالیہ کے بعد شعری نشست منعقد ہوئی جسمیں حضرات مسلم سلیم، ثروت زیدی، ڈاکٹر اعظم، مظفر طالب، ملک نوےد، سلیم ثروت، غوثیہ خان ثمین ،محمد عباد خان ، پرویز اختر، ڈاکٹر احسان اعظمی، محترمہ اورینہ ادا، رمیش نند اورمحمد عباد خاں شمس بھوپالی نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔نظامت اپنے خوبصورت انداز میں ڈاکٹر اعظم نے فرمائی۔ اس موقعہ پرشہر کی مقتدر ہستیاں اور شائقین بھاری تعداد میں موجود تھے۔

muslim saleem reciting  3 muslim saleem reciting  1Muslim Saleem reciting his kalam and delivering presidential address

From left) Olypion hockey great Syed Jalaluddin, Prof. Haidar Abbas Rizvi, Muslim Saleem, Sarwat Zaidi Bhopali, Janab Devi Saran, Janab Aijaz Khan

From left) Olympion hockey great Syed Jalaluddin, Prof. Haidar Abbas Rizvi, Muslim Saleem, Sarwat Zaidi Bhopali, Janab Devi Saran, Janab Aijaz Mohammad Khan

Humsukhan's president Ataullah Faizan presenting memento to Janab Sarawat Zaidi

Humsukhan’s president Ataullah Faizan presenting memento to Janab Sarawat Zaidi

Dr Azam, Muslim Saleem, Sarwat Zaidi, Devi Saran and Aijaz Mohammad Khan releasing Sarwat Zaidi's book Manzilon Ke Paar

Dr Azam, Muslim Saleem, Sarwat Zaidi, Devi Saran and Aijaz Mohammad Khan releasing Sarwat Zaidi’s book Manzilon Ke Paar

Muslim Saleem being honoured

Muslim Saleem being honoured

Patrons and members of Humsukhan with Muslim Saleem and Sarwat Zaidi

Patrons and members of Humsukhan with Muslim Saleem and Sarwat Zaidi

Members of Humsukhan Welfare Society with Muslim Saleem and Sarwat Zaidi

Members of Humsukhan Welfare Society with Muslim Saleem and Sarwat Zaidi

Janab Devi Saran speaking

Janab Devi Saran speaking

Sarwat Zaidi Presenting his famous poem on Bhopal Hocky set in frame to Muslim Saleem

Sarwat Zaidi Presenting his famous poem on Bhopal Hocky set in frame to Muslim Saleem

Prof. Haidar Abbas Rizvi speaking

Prof. Haidar Abbas Rizvi speaking

afghani

Ali AfghaniDr Azam reciting

Dr AzamDr Ehsan Azmi

Dr. EhsanAzmiGhousiya

Ghosiya Khan Sabeenibad 2

Ibad Mohammad Khan Shams Bhopalimalk navedMalik Naved

audinece 6 Aaudience1audience 6audience 7audience ladiesaudience last row

Shabnam Shakeel

Shabnam Shakeelشبنم شکیل
شبنم شکیل نامور شاعر اور نقاد سید عابد علی عابد کی صاحب زادی تھیں ۔ وہ 12 مارچ 1942 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے شعری مجموعے شب زاد، اضطراب اور مسافت رائیگاں تھی اور نثری مجموعے تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے ۔۔۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔۔ شبنم شکیل 2 مارچ 2013 کو مختصر علالت کے بعد کراچی کے ضیاالدین ہسپتال میں وفات پاگئیں ۔ وہ اسلام آباد میں آسودہ خاک ہیں ۔

Sabiha Saba صبیحہ صبا کی غزل 

بظاہر رونقوں میں بزم آرائ میں جیتے ہیں

حقیقت ہے کہ ہم تنہا ہیں ، تنہائ میں جیتے ہیں

ہمارے چار سو رنگیں محل ہیں تیری یادوں کے

تیری یادوں کی رعنائ میں ِِ زیبائ میں جیتے ہیں

 خوشا ہم امتحان دشت گردی کے نتیجے میں

بصد اعزازمشق آبلہ پائ میں جیتے ہیں

ستم گاروں نے آیئن وفا منسوخ کر ڈالا

مگر کچھ لوگ ابھی امید اجرائ میں جیتے ہیں

ادھر ہر آن استقبال افکار تر وتازہ

ادھر ہم سرنگوں ماضی تمنائ میں جیتے ہیں

مقفل ہیں ادھر تو شہر دل کے سارے دروازے

ادھر ہم ہیں کہ اک شوق پزیرائ میں جیتے ہیں

نہ ہے یہ دور پتھر کا نہ کاٹھی کا زمانہ ہے

کہ ہم تہذیب کے عہد کلیسائ میں جیتے ہیں

یہاں رائج ابھی تک ہے وہی قانون جنگل کا

  جو ٹھٹھکے پیش قدمی میں وہ پسپائ میں جیتے ہیں

اگر حق گوئ قیمت ہے متاع لطف یاراں کی

تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائ میں جیتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرسلہ ۔۔۔۔فرزانہ اعجا